عمران خان کیا کرنے جا رہے ہیں ؟
حالیہ آپ جانتے ہیں عمران خان نے تین ارب ڈالر سعودی عرب سے لیے پھر اس کے بعد موٹر وے گروی رکھی اور اس کے بدلے ایک ارب ڈالر لیا اس کے بعد پاکستان کی جو ایکسپورٹس ہے وہ کم ہے اور امپورٹ زیادہ ہے یہ تمام تر چیزیں ہونے کے باوجود اس وقت پاکستان کی معاشی حالت بالکل بھی مستحکم نہیں ہے اور جب تک فارن ریزرو مستحکم نہیں ہوتا اس وقت تک آپ کو قرضوں کی ضرورت ہوگی اب اس کے بعد سعودی عرب نے بھی ہم سے پیسے واپس لینے ہیں ۔
عمران خان کی حکومت کو ایک تجویز دی گئی ایک فورن پاکستانی کی طرف سے۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ آپ ایک کام کیجئے جن لوگوں کے پاس سونا پڑا ہوا ہے آپ کو سونا ہے ان سے ادھار لے۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا حکومت اب اس پر غور کر رہی ہے اور غالب امکان ہے کہ پھر وہ عوام کو بتائیں گے اس میں حکومت عوام سے سونا ادھار لینے جارہی ہے اب آگے یہ ہوگا کیا۔ اب ہونے یہ جا رہا ہے کہ حکومت آپ کو سونے کے بدلے پیسے دے گی اور اس کے ساتھ وہ ایک اسکیم دینے جا رہے ہیں۔ سکیم کچھ ایسے ہوگی کہ چونکہ پاکستان میں اکثریت لوگ نان فائلر ہیں اور وہ ٹیکس بھی نہیں دیتے اور اس صورتحال میں ان کو کہا یہ جا رہا ہے کیا آپ اس اسکیم کے اندر آ جائیں آپ کو ایمنسٹی مل جائے گی یعنی آپ کا جو سونا ہے اس کو لیگل کروا لے۔ تاکہ کل آپ یہ ڈکلیئر کر سکیں اور اس سونے کو کی بھی یوز کر سکتے ہیں پھر اس کے بعد آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کے پاس گولڈ کہاں سے آیا۔یعنی یہ عوام کو ایک فیسیلیٹی دی جا رہی ہے۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہوتا ہے تو اس پر بھی غور ہوگا
کہعوام کے پاس جو گولڈ ہوتا ہے اس کی ویلیو لگا کر ابحکومت کو ادھار دے سکتے ہیں اور اس کے بعد حکومت آپ کو اس کا بینیفٹ دے گی۔ابھی اگر پاکستان میں حکومت کسی کی بھی آئے خوا وہ زرداری کی ہو یا نواز شریف کی ہو یا عمران خان کی ہو لیکن آپ کا ملک آئی ایم ایف چلا رہا ہے یعنی جو مرضی ہو جائے آپ پالیسی نہیں بنا سکتے۔ پاکستان کے لیے اس وقت بڑا ٹف ٹائم ہوچکا ہے۔ حکومت کے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں ہے اسی لئے اب وہ عوام کو کہہ رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ دوسرے ممالک اب آپ کو پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کوئی انویسٹر بھی پاکستان میں نہیں آ رہا انویسٹر اس لیے نہیں آتا کہ آپ کا عدالتی نظام کام نہیں کر رہا ہوتا۔انویسٹر کہہ رہا ہوتا ہے کیا یہاں پر میرا پیسہ ڈوب جائے گا کیونکہ میرا کوئی پوچھنے والا نہیں کسی کو انصاف نہیں ملتا تو ہم یہاں پر آکر کیا کریں گے۔ قندیل بلوچ اور ظاہر جعفر کا کیس اب کے سامنے ہیں ۔ تو پھر انویسٹر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ لوکل عدالت نہیں بلکہ انٹرنیشنل عدالتی کریں گے۔ہمارے ملک کے مسائل کچھ اس طرح سے ہے۔ آگے دیکھتے ہیں انشاللہ اچھا ہی ہوگا۔
Comments
Post a Comment